طہارت نفس

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - روح کی پاکیزگی، باطن کی صفائی، بزرگی، پاکبازی۔ "اپنی نجاہت و شرافت اور طہارت نفس کا پاس کرے، تو میرے اندازہ میں بے شک وہ ترقی یافتہ ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، تخلیقات و نگارشات، ٣٦٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'طہارت' کے آخر پر کسرۂ اضافت لگانے کے بعد عربی ہی سے مشتق اسم 'نفس' لگانے سے مرکب 'طہارتِ نفس' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٩٨٥ء کو "تخلیقات و نگارشات" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - روح کی پاکیزگی، باطن کی صفائی، بزرگی، پاکبازی۔ "اپنی نجاہت و شرافت اور طہارت نفس کا پاس کرے، تو میرے اندازہ میں بے شک وہ ترقی یافتہ ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، تخلیقات و نگارشات، ٣٦٢ )

جنس: مؤنث